ISLAMIC DUAs

    اسلامی دعائیں

             

اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ 
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید​

1

 سید نا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں،کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی،
(اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)

ترجمہ:اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر،اور آخرت میں بھلائی عطا کر،

اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1321

اگر ہم اس دعا کے فوائد کو ذہن میں اس طرح رکھ کے پڑھیں ان شاء اللہ اور فائدہ ہو گا
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے فتنے میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے رب سے دور نہ کردے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے مدینے والے کی غلامی سے نہ نکالے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے اولیاء کی محبتوں سے دور نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے ماں باپ کی نافرمانی میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے ذلت گناہوں ظلمت اور عسیان میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو بہترین ہو، ایسی دنیا جو میری نسلوں کے کام آئے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو عافیت والی رحمت والی برکت والی ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو سکھ والی ہوپریشانیوں سے دور فرما
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرماجو بہترین لاجواب اورنہ ختم ہونے والی ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جس میں برکت وسعت اور عافیت ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو قیامت تک میری نسلوں کی کفایت کردے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو تیری شان کے مطابق ہو اپنی شان کے مطابق عطافرما
• اے اللہ مجھےجنت عطافرما تو جنت الفردوس عطافرما،اپنی شان کےمطابق عطافرما
آمین



2

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا 

(سورة الإسراء)
ترجمہ : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔​


رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾ رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوٰلِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ ﴿۴۱﴾اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب او ر ہماری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا

3.

  رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي

۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر ۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔
سورۃ طٰہ ۔ آیت 25 سے 28



4.

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّاب
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مت ڈال اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما۔ بےشک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔
یہ دعا سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 8 کے طور پر قرآنِ مجید میں شامل ہے۔

5

 دعائے یونس علیہ السلام

لَا إلٰہَ إلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ

’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘



6.

   حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس شخص نے سبحان اللہ وبحمدہ‘ٖ سبحان اللہ العظیم ، استغفر اللہ واتوب الیہ کہا اس کے لیے اس کلمے کو اسی طرح لکھ لیا جائے گا پھر اسے عرش کے ساتھ معلق کردیا جائے گااور اس شخص کا کوئی عمل کوتاہ اسے مٹانہ سکے گا یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو وہ کلمہ اسی طرح مہربندہوگا جس طرح کہ اس نے اداکیا تھا ۔(مجمع الزوائد)


7.

   آپ   (صلى الله عليه وسلم)کو جب کوئی رنج وغم لاحق ہوتا تو فرماتے :"يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث"

8


.     اللهم اغفر لحینا و میتنا و شاهدنا و غائبنا و صغیرنا و کبیرنا و ذکرنا و انثنا , اللهم من احییته منا فاحیه علی الاسلام و من توفیته منا فتوفه علی الایمان 


9.

   شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ام المومنین ! جب رسول اللہ ﷺ کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر : {يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ } ۱؎ پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ اکثر یہ دعا : ''يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ''کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:'' اے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دوانگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتاہے (دین حق پر ) قائم وثابت قدم رکھتاہے اور جسے چاہتاہے اس کا دل ٹیڑھا کردیتاہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت : {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا} ۲؎ پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان ، انس ، جابر ، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،

وضاحت ۱؎ : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پرجمادے۔

وضاحت ۲؎ : اے ہمارے پروردگار!ہمیں ہدایت دے دینے کے بعدہمارے دلوں میں کجی (گمراہی)نہ پیداکر(آل عمران:۸)


10. 

 سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا

يَصِفُوْنَ 

(180)

آپ کا رب پاک ہے عزت کا مالک ان باتوں سے

 جو وہ بیان کرتے ہیں۔


وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ (181)اور رسولوں پر

 سلام ہو۔


وَالْحَـمْدُ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (182)اور سب

 تعریف 


اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔

سورت اصافات آیت 180-182

11.

( رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ' اِنَّکَ اَنْتَ السَّمَیْعُ الْعَلِیْمُ ' وَتُبْ عَلَیْنَا ' اِنَّکَ اَنْتَ التَّواب الرَّحِیْمُ )

 'اےہمارے رب !ہم سے یہ خدمت قبول کرلے ،تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما .تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے'

12.


بِسْمِ اللهِ الّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِيْ الأَرْضِ وَلَا فِيْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ العَلِيْمُ،

اس اللہ کے نام سے کہ جس کے نام سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی ذات سننے والی اور جاننے والی ہے۔


حصن المسلم
من اذکار الکتاب والسنۃ
ترتیب و تحقیق: فضیلۃ الشیخ سعید بن علی القحطانی
ترجمۃ: پروفیسر احمد ساقی

13

لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَـهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْـهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَـآ اِنْ نَّسِيْنَـآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَـمَلْتَهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۖ وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَـمْنَا ۚ، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا، نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی، اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد کر۔
سورت بقرہ آیت نمبر 286

14.

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ 


15

حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ  (سُورة آل عمران 173  )
ترجمہ:  ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے۔


16

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
سورت اشعرا آیت 80


17

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر ۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔

سورۃ طٰہ ۔ آیت 25 سے 28

18     
                    اللہ پاک کے ۹۹ نام                  اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے اسمائے حسنیٰ کے حوالہ سے دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی تعداد ننانوے (99) ذکر فرمائی گئی ہے اور ان کے متعلق رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ:
"جو شخص ان کو حفظ کر لے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔"

اسماء کو پڑھنے کا طریقہ:
جب اسماء کو پڑھنے کا ارادہ ہو تو یوں شروع کریں۔
ھواللہ الذی لا الٰہ الا ھو الرحمٰن الرحیمآخر تک مسلسل پڑھتے جائیں۔ ہر اسم کے آخر پر پیش پڑھیں اور اسے آگے والے اسم سے ملا کر پڑھیں۔ جس اسم پر سانس ٹوٹ جائے اس کو نہ ملائیں۔ اس سے آگے کا اسم اَل کے ساتھ شروع کریں۔

اسمائے حسنیٰ کے مجموعی ورد کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔
الرحمنبڑی رحمت والا
2الرحيمنہائت مہربان
3الملكحقیقی بادشاہ
4القدوسنہائت مقدس اور پاک
5السلامجس کی ذاتی صفت سلامتی ہے
6المؤمنامن و امان عطا کرنے والا
7المهيمنپوری نگہبانی کرنے والا
8العزيزغلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے
9الجبارصاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے
10المتكبرکبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے
11الخالقپیدا فرمانے والا
12البارئٹھیک بنانے والا
13المصورصورت گری کرنے والا
14الغفارگناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا
15القهارسب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں
16الوهاببغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا
17الرزاقسب کو روزی دینے والا
18الفتاحسب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا
19العليمسب کچھ جاننے والا
20القابضتنگی کرنے والا
21الباسطفراخی کرنے والا
22الخافضپست کرنے والا
23الرافعبلند کرنے والا
24المعزعزت دینے والا
25المذلذلت دینے والا
26السميعسب کچھ سننے والا
27البصيرسب کچھ دیکھنے والا
28الحكمفیصلہ کرنے والا
29العدلسراپا عدل و انصاف
30اللطيفلطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے
31الخبيرہر بات سے با خبر
32الحليمنہائت بردبار
33العظيمبڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر
34الغفوربہت بخشنے والا
35الشكورحسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا
36العليسب سے بالا
37الكبيرسب سے بڑا
38الحفيظسب کا نگہبان
39المقيتسب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا
40الحسيبسب کے لیے کفایت کرنے والا
41الجليلعظیم القدر
42الكريمصاحبِ کرم
43الرقيبنگہدار اور محافظ
44المجيبقبول کرنے والا
45الواسعوسعت رکھنے والا
46الحكيمسب کام حکمت سے کرنے والا
47الودوداپنے بندوں کو چاہنے والا
48المجيدبزرگی والا
49الباعثاٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا
50الشهيدحاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے
51الحقجس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے
52الوكيلکارسازِ حقیقی
53القوىصاحبِ قوت
54المتينبہت مضبوط
55الولىسرپرست و مددگار
56الحميدمستحقِ حمد و ستائش
57المحصىسب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا
58المبدئپہلا وجود بخشنے والا
59المعيددوبارہ زندگی دینے والا
60المحيىزندگی بخشنے والا
61المميتموت دینے والا
62الحيزندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے
63القيومخود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا
64الواجدسب کچھ اپنے پاس رکھنے والا
65الماجدبزرگی اور عظمت والا
66الواحدایک اپنی ذات میں
67الاحداپنی صفات میں یکتا
68الصمدسب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج
69القادرقدرت والا
70المقتدرسب پر کامل اقتدار رکھنے والا
71المقدمجسے چاہے آگے کر دینے والا
72المؤخرجسے چاہے پیچھے کر دینے والا
73الأولسب سے پہلے وجود رکھنے والا
74الأخرسب کے بعد وجود رکھنے والا
75الظاهربالکل آشکار
76الباطنبالکل مخفی
77الواليمالک و کارساز
78المتعاليبہت بلند و بالا
79البربڑا محسن
80التوابتوبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا
81المنتقممجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا
82العفوبہت معافی دینے والا
83الرؤوفبہت مہربان
84مالك الملكسارے جہاں کا مالک
85ذو الجلال و الإكرامصاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں
86المقسطحقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف
87الجامعساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا
88الغنىخود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں
89المغنىاپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا
90المانعروک دینے والا
91الضاراپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا
92النافعنفع پہنچانے والا
93النورسراپا نور
94الهاديہدائت دینے والا
95البديعبغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا
96الباقيہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں
97الوارثسب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا
98الرشيدصاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے
99الصبوربڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا

19

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت در پیش آئے تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے :
لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيْمُ الْکَرِيْمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، والْحَمْدُ ِﷲِ 

رَبِّ الْعَالَمِيْنَ،  أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ

 وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا 

إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا یَا ارحم الراحمین.

ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی صلاةِ الحاجة، 2 : 171، 172، رقم : 1384
’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ برد بار بزرگ ہے بڑے عرش کا مالک، اے اللہ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذریعے بخشش کے اسباب، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں، میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم ختم کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضا مندی کے مطابق ہو پوری فرما۔‘‘


20

استخارہ کی مسنون دعا
اَللّٰھمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ 
اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ  فَاقْدِرْہُ لِیْ ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ 
وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ  ، فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہ(بخاری،ترمذی)

دعاکرتے وقت جب ”ہذا الامر “پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”ہذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلا ”ہذا السفر “یا ”ہذا النکاح “ یا ”ہذہ التجارة “یا ”ہذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”ہذا الأمر “ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے

استخارہ حدیث نبوی کی روشنی میں
۱- عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارة فی الامور کلھا کما یعلمنا سورة من القرآن (ترمذی )

ترجمہ :حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔


ایک حدیث میں حضور اقدس صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

۴- ما خاب من استخار وما ندم من استشار (طبرانی)
یعنی جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا کہ میں نے یہ کام کیوں کیا ؟یا میں نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ، اس لیے کہ جو کام کیا وہ مشورہ کے بعد کیا اور اگر نہیں کیا تو مشورہ کے بعد نہیں کیا ، اس وجہ سے وہ شرمندہ نہیں ہوگا ۔
اس حدیث میں جو یہ فرمایا کہ استخارہ کرنے والاناکام نہیں ہوگا ،مطلب اس کا یہ کہ انجام کے اعتبار سے استخارہ کرنے والے کو ضرور کامیابی ہوگی ، چاہے کسی موقع پر اس کے دل میں یہ خیال بھی آجائے کہ جو کام ہوا وہ اچھا نہیں ہوا ، لیکن اس خیال کے آنے کے باوجود کامیابی اسی شخص کو ہوگی جو اللہ تعالی سے استخارہ کرتا رہے ، اسی طرح جو شخص مشورہ کرکے کام کرے گا وہ کبھی پچھتائے گا نہیں ، اس لیے کہ خدا نخواستہ اگر وہ کام خراب بھی ہوگیا تو اس کے دل میں اس بات کی تسلی ہوگی کہ میں نے یہ کام اپنی خود رائی اور اپنے بل بوتے پر نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دوستوں اور بڑوں سے مشورہ کے بعد کیا تھا ، اب آگے اللہ تعالی کے حوالے ہے کہ وہ جیسا چاہیں فیصلہ فرمادیں۔ اس لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے دوباتوں کا مشورہ دیا ہے کہ جب بھی کسی کام میں کشمکش ہو تو دو کام کرلیا کرو ، ایک استخارہ اور دوسرے استشارہ یعنی مشورہ۔
     
21

بخاری (6330) مسلم (594) میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز  سے سلام پھیرتے تھے فرماتے:
("لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" [یعنی: اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے، وہ یکتا  ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کیلئے تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،  یا اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور  تیرے ہاں کسی کی شان و شوکت  اس کے کام نہیں آئے گی])


22

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سورت البقرہ(128)



23   
       سورت الفجر
يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
(ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔
اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔
فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
پس میرے بندوں میں شامل ہو۔
وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
اور میری جنت میں داخل ہو۔

24
سورت حشر 

  1. هُوَ اللَّهُ الَّذي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّ‌حْمَنُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٢٢﴾


وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ (22) 


تفسیر


۲۲۔۱ غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہرچیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے 



  1. هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ‌ الْمُتَكَبِّرُ‌ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٢٣﴾ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِ‌ئُ الْمُصَوِّرُ‌ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٢٤


    وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں (23) وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے (24) 

  2. 25
  3. نماز کے بعد کی دعا
  4. اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذاالجلال و الاکرام

    ترجمہ: اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے اور برکت والا ہے اے عزت والے شان والے
26
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح و شامسات مرتبہحسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیمسچے دل سے کہے یعنی فضیلت کے یقین کے ساتھ کہے یا یوں ہی فضیلت کے یقین کے بغیر کہے تو اللہ تعالیٰ اس کی (دنیا و آخرت کے) تمام غموں سے حفاظت فرمائیں گے، ترجمہ۔( مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہیں، ان کے سوا کوئی معبود نہیں ان ہی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کے مالک ہیں)۔
(ابو داود)

27

گھر سے نکلنے کی دعا:
((بسم اللہ توکلت علی اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ))

’’اللہ کے نام کے ساتھ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے نہ کچھ کرنے کی ۔‘‘ (ابوداؤد،ترمذی)
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ انسان جب یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے :تجھے اللہ کافی ہے اور تجھے شر سے بچا لیا گیا ہے اور تیری راہنمائی کردی گئی ہے ۔
چنانچہ جب انسان گھر سے باہر جانے لگے خواہ نماز پڑھنے کے لیے یا اپنے کام کے لیے یاگھر کے کسی کام کے لیے تو ہر مرتبہ اس دعا کو پڑھ لے تاکہ مندرجہ بالا بھلائیاں اسے نصیب ہوں۔
(اللہ ہمیں ان سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین)

28

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.

ترجمہ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بےجا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے۔(آل عمران147)​


29


بخشش اور رحم کی دعا


رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ 
 اے رب! ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے
سورت اعراف 23


30

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ سورة المؤمنون۔118
ترجمہ : اور كہہ ديجیے كہ اے رب ، (ميرى) مغفرت كر اور رحم كر ، اور تو سب بہتر رحم كرنے والا ہے ۔

31

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے میرے اللہ ذکر کرنے اور شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر 

32

واللہ ھو خیر الرازقین
 اور بیشک الله بہترین رزق دینے والا ہے

33
سونے کی دعا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر تشریف لاتے تو دایاں ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی۔
(رواہ البخاری ٢/٩٣٤)
اے اللہ ! میں تیرا نام لے کر مرتا اور جیتا ہوں

34  


سو کر اٹھنے کی دعا
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔
(رواہ البخاری ٢/٩٣٤ ومسلم٢/٣٤٨)
شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں موت کے بعد زندہ کیااور اسی کی طرف جانا ہے ۔ 

35
بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے یہ پڑھیں۔

اَللّٰھمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ۔
(رواہ البخاری ١/٢٦،٢/٩٣٦ ومسلم ١/١٦٣)
اے اللہ !میں آپ کی پناہ پکڑتا ہوںتمام شیاطین (مردوں اورعورتوں) کے شرسے۔

36

بیت الخلاء سے نکل کر یہ دعاء پڑھے
(دایاں پاؤں پہلے باہر نکالے)
(١)
غُفْرَانَکَ
میں آپ کی بخشش چاہتا ہوں۔
رواہ الترمذی١/٧ وابوداود١/٦

37
وضؤ کے بعد کی دعاء
اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہ وَاَشْھَدُ اَ نَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔
(رواہ مسلم ١/١٢٢ الی عبدہ ورسولہ ،والترمذی ١/١٨)
میں دل سے اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اس کاکوئی شریک نہیں ،اور اقرار کرتا ہوں کہ بے شک محمدۖ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ ! مجھے تو بہ کرنے والوں میں سے بنادے اور مجھے پاک وصاف لوگوں میں سے کردیجئے۔

38
سفر کی دعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ،سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّالَہ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَالَمُنْقَلِبُوْنَ۔
(رواہ مسلم ١/٤٣٤،والترمذی ٢/١٨٢۔)
شکر ہے اللہ کا ،پاکی ہے اس ذات کے لئے جس نے اِس کو ہمارے قبضہ میں کردیا اور ہم تواس کو قابو کرنے والے نہ تھے اور ہم پر وردگار کی طرف ضرور لوٹنے والے ہیں۔

39

کوئی مصیبت آئے تو یہ دعا پڑھنی چاہیے
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ،اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًامِّنْھَا۔
(رواہ مسلم ١/٣٠٠)
ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ !مجھے اپنی مصیبت میں اجر دے اوراس کا نعم البدل عطا فرما۔

40

صحت ،خیریت اور عافیت کی دعاء
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ۔
(رواہ مسلم٢/٣٤٥)
اے اللہ !مجھے ہدایت پر استقامت نصیب فرمااور مجھے رزق عطا فرما اور مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما۔

41
ادائے قرض میں آسانی کی دعاء
اَللّٰہُمَّ اَکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ۔
(رواہ الترمذی ٢/١٩٦،والحاکم ١/٥٣٨وقال صحیح ووافقہ الذہبی)
اے اللہ ! اپنے حلال کے ذریعے مجھے حرام سے بچا اورمجھے اپنے فضل سے اپنے ماسواسے مستغنی فرمادے۔
ملحوظہ:جوشخص یہ دعاپڑھے تو جبل صبیرکے برابربھی قرض ہو

 تو اللہ تعالیٰ اس کی ادا میں آسانی فرمادیں گے (بشرطیکہ

اسباب بھی اختیار کرے)۔


42

اَللّٰھمَّ اِنَّکَ عَفُوّتُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْفُ عَنِّیْ ۔
(رواہ الترمذی٢/١٩١، وابن ماجہ٢٧٤ )
اے اللہ !تو بہت معاف فرمانے والا ہے ،معافی کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے معاف فرمادے۔

43
''اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ
 وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ'' 
وضاحت ۱؎ : اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں فکر وغم سے، عاجزی
 سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے
 قہر وظلم وزیادتی سے۔

44

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: جب تم 
میں سے کوئی ایک تشہد کے لئے بیٹھے تو اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ طلب کرے اور اس طرح 
کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَ مِنْ 

عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ

الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ

 الدَّجَّالِ

اے اللہ! میں آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں عذابِ جہنم سے اور عذاب قبر سے اور زندگی اور 

موت کے فتنہ سے 

اور مسیح دجال کے فتنہ کے شرسے

45

    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
اے اللہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم اور پاکیزہ رزق اور قبول کیے گئے عمل کا سوال کرتا ہوں۔
 ابن ماجہ

46


اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَکَرَاتِ الْمَوْتِ


اے اﷲ! موت کی سختیوں اور اُس سے طاری ہونے والی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما (ترمذی)

Comments

  1. Ameer Hone Ka Nuskha | Dolat Itni Ke Sanbhali Na Jaye l Hadees e Nabvi saw l Hafiz Studio https://youtu.be/mpLHsNU_vGM

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog