ISLAMIC DUAs
اسلامی دعائیں
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید۔
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید
1
سید نا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں،کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی،
(اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)
ترجمہ:اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر،اور آخرت میں بھلائی عطا کر،
اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1321
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید۔
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید
1
اگر ہم اس دعا کے فوائد کو ذہن میں اس طرح رکھ کے پڑھیں ان شاء اللہ اور فائدہ ہو گا
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے فتنے میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے رب سے دور نہ کردے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے مدینے والے کی غلامی سے نہ نکالے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے اولیاء کی محبتوں سے دور نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے ماں باپ کی نافرمانی میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو مجھے ذلت گناہوں ظلمت اور عسیان میں مبتلا نہ کر دے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو بہترین ہو، ایسی دنیا جو میری نسلوں کے کام آئے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو عافیت والی رحمت والی برکت والی ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو سکھ والی ہوپریشانیوں سے دور فرما
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرماجو بہترین لاجواب اورنہ ختم ہونے والی ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جس میں برکت وسعت اور عافیت ہو
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو قیامت تک میری نسلوں کی کفایت کردے
• اے اللہ مجھے ایسی دنیا عطافرما جو تیری شان کے مطابق ہو اپنی شان کے مطابق عطافرما
• اے اللہ مجھےجنت عطافرما تو جنت الفردوس عطافرما،اپنی شان کےمطابق عطافرما
آمین
2
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(سورة الإسراء)
ترجمہ : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔
2
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾ رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوٰلِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ ﴿۴۱﴾اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب او ر ہماری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا
3.
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي
۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر ۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔
سورۃ طٰہ ۔ آیت 25 سے 28
4.
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّاب
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مت ڈال اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما۔ بےشک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔
یہ دعا سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 8 کے طور پر قرآنِ مجید میں شامل ہے۔
5
دعائے یونس علیہ السلام
لَا إلٰہَ إلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
6.
7.
آپ (صلى الله عليه وسلم)کو جب کوئی رنج وغم لاحق ہوتا تو فرماتے :"يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث"
آپ (صلى الله عليه وسلم)کو جب کوئی رنج وغم لاحق ہوتا تو فرماتے :"يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث"
8
. اللهم اغفر لحینا و میتنا و شاهدنا و غائبنا و صغیرنا و کبیرنا و ذکرنا و انثنا , اللهم من احییته منا فاحیه علی الاسلام و من توفیته منا فتوفه علی الایمان
9.
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ام المومنین ! جب رسول اللہ ﷺ کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر : {يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ } ۱؎ پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ اکثر یہ دعا : ''يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ''کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:'' اے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دوانگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتاہے (دین حق پر ) قائم وثابت قدم رکھتاہے اور جسے چاہتاہے اس کا دل ٹیڑھا کردیتاہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت : {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا} ۲؎ پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان ، انس ، جابر ، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ام المومنین ! جب رسول اللہ ﷺ کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر : {يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ } ۱؎ پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ اکثر یہ دعا : ''يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ''کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:'' اے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دوانگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتاہے (دین حق پر ) قائم وثابت قدم رکھتاہے اور جسے چاہتاہے اس کا دل ٹیڑھا کردیتاہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت : {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا} ۲؎ پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان ، انس ، جابر ، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
وضاحت ۱؎ : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پرجمادے۔
وضاحت ۲؎ : اے ہمارے پروردگار!ہمیں ہدایت دے دینے کے بعدہمارے دلوں میں کجی (گمراہی)نہ پیداکر(آل عمران:۸)
10.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا
يَصِفُوْنَ
(180)
آپ کا رب پاک ہے عزت کا مالک ان باتوں سے
جو وہ بیان کرتے ہیں۔
جو وہ بیان کرتے ہیں۔
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ (181)اور رسولوں پر
سلام ہو۔
سلام ہو۔
وَالْحَـمْدُ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (182)اور سب
تعریف
تعریف
اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
سورت اصافات آیت 180-182
11.
( رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ' اِنَّکَ اَنْتَ السَّمَیْعُ الْعَلِیْمُ ' وَتُبْ عَلَیْنَا ' اِنَّکَ اَنْتَ التَّواب الرَّحِیْمُ )
'اےہمارے رب !ہم سے یہ خدمت قبول کرلے ،تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما .تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے'
12.
بِسْمِ اللهِ الّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِيْ الأَرْضِ وَلَا فِيْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ العَلِيْمُ،
اس اللہ کے نام سے کہ جس کے نام سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی ذات سننے والی اور جاننے والی ہے۔
حصن المسلم
من اذکار الکتاب والسنۃ
ترتیب و تحقیق: فضیلۃ الشیخ سعید بن علی القحطانی
ترجمۃ: پروفیسر احمد ساقی
من اذکار الکتاب والسنۃ
ترتیب و تحقیق: فضیلۃ الشیخ سعید بن علی القحطانی
ترجمۃ: پروفیسر احمد ساقی
13
لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَـهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْـهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَـآ اِنْ نَّسِيْنَـآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَـمَلْتَهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۖ وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَـمْنَا ۚ، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (286)
اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا، نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی، اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد کر۔
سورت بقرہ آیت نمبر 286
14.
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
15
حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (سُورة آل عمران 173 )
ترجمہ: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے۔
16
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
سورت اشعرا آیت 80
17
سورۃ طٰہ ۔ آیت 25 سے 28
اللہ پاک کے ۹۹ نام اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے اسمائے حسنیٰ کے حوالہ سے دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی تعداد ننانوے (99) ذکر فرمائی گئی ہے اور ان کے متعلق رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ:
"جو شخص ان کو حفظ کر لے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔"
اسماء کو پڑھنے کا طریقہ:
جب اسماء کو پڑھنے کا ارادہ ہو تو یوں شروع کریں۔
ھواللہ الذی لا الٰہ الا ھو الرحمٰن الرحیمآخر تک مسلسل پڑھتے جائیں۔ ہر اسم کے آخر پر پیش پڑھیں اور اسے آگے والے اسم سے ملا کر پڑھیں۔ جس اسم پر سانس ٹوٹ جائے اس کو نہ ملائیں۔ اس سے آگے کا اسم اَل کے ساتھ شروع کریں۔
"جو شخص ان کو حفظ کر لے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔"
اسماء کو پڑھنے کا طریقہ:
جب اسماء کو پڑھنے کا ارادہ ہو تو یوں شروع کریں۔
ھواللہ الذی لا الٰہ الا ھو الرحمٰن الرحیمآخر تک مسلسل پڑھتے جائیں۔ ہر اسم کے آخر پر پیش پڑھیں اور اسے آگے والے اسم سے ملا کر پڑھیں۔ جس اسم پر سانس ٹوٹ جائے اس کو نہ ملائیں۔ اس سے آگے کا اسم اَل کے ساتھ شروع کریں۔
اسمائے حسنیٰ کے مجموعی ورد کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔
| الرحمن | بڑی رحمت والا | |
| 2 | الرحيم | نہائت مہربان |
| 3 | الملك | حقیقی بادشاہ |
| 4 | القدوس | نہائت مقدس اور پاک |
| 5 | السلام | جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے |
| 6 | المؤمن | امن و امان عطا کرنے والا |
| 7 | المهيمن | پوری نگہبانی کرنے والا |
| 8 | العزيز | غلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے |
| 9 | الجبار | صاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے |
| 10 | المتكبر | کبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے |
| 11 | الخالق | پیدا فرمانے والا |
| 12 | البارئ | ٹھیک بنانے والا |
| 13 | المصور | صورت گری کرنے والا |
| 14 | الغفار | گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا |
| 15 | القهار | سب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں |
| 16 | الوهاب | بغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا |
| 17 | الرزاق | سب کو روزی دینے والا |
| 18 | الفتاح | سب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا |
| 19 | العليم | سب کچھ جاننے والا |
| 20 | القابض | تنگی کرنے والا |
| 21 | الباسط | فراخی کرنے والا |
| 22 | الخافض | پست کرنے والا |
| 23 | الرافع | بلند کرنے والا |
| 24 | المعز | عزت دینے والا |
| 25 | المذل | ذلت دینے والا |
| 26 | السميع | سب کچھ سننے والا |
| 27 | البصير | سب کچھ دیکھنے والا |
| 28 | الحكم | فیصلہ کرنے والا |
| 29 | العدل | سراپا عدل و انصاف |
| 30 | اللطيف | لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے |
| 31 | الخبير | ہر بات سے با خبر |
| 32 | الحليم | نہائت بردبار |
| 33 | العظيم | بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر |
| 34 | الغفور | بہت بخشنے والا |
| 35 | الشكور | حسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا |
| 36 | العلي | سب سے بالا |
| 37 | الكبير | سب سے بڑا |
| 38 | الحفيظ | سب کا نگہبان |
| 39 | المقيت | سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا |
| 40 | الحسيب | سب کے لیے کفایت کرنے والا |
| 41 | الجليل | عظیم القدر |
| 42 | الكريم | صاحبِ کرم |
| 43 | الرقيب | نگہدار اور محافظ |
| 44 | المجيب | قبول کرنے والا |
| 45 | الواسع | وسعت رکھنے والا |
| 46 | الحكيم | سب کام حکمت سے کرنے والا |
| 47 | الودود | اپنے بندوں کو چاہنے والا |
| 48 | المجيد | بزرگی والا |
| 49 | الباعث | اٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا |
| 50 | الشهيد | حاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے |
| 51 | الحق | جس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے |
| 52 | الوكيل | کارسازِ حقیقی |
| 53 | القوى | صاحبِ قوت |
| 54 | المتين | بہت مضبوط |
| 55 | الولى | سرپرست و مددگار |
| 56 | الحميد | مستحقِ حمد و ستائش |
| 57 | المحصى | سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا |
| 58 | المبدئ | پہلا وجود بخشنے والا |
| 59 | المعيد | دوبارہ زندگی دینے والا |
| 60 | المحيى | زندگی بخشنے والا |
| 61 | المميت | موت دینے والا |
| 62 | الحي | زندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے |
| 63 | القيوم | خود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا |
| 64 | الواجد | سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا |
| 65 | الماجد | بزرگی اور عظمت والا |
| 66 | الواحد | ایک اپنی ذات میں |
| 67 | الاحد | اپنی صفات میں یکتا |
| 68 | الصمد | سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج |
| 69 | القادر | قدرت والا |
| 70 | المقتدر | سب پر کامل اقتدار رکھنے والا |
| 71 | المقدم | جسے چاہے آگے کر دینے والا |
| 72 | المؤخر | جسے چاہے پیچھے کر دینے والا |
| 73 | الأول | سب سے پہلے وجود رکھنے والا |
| 74 | الأخر | سب کے بعد وجود رکھنے والا |
| 75 | الظاهر | بالکل آشکار |
| 76 | الباطن | بالکل مخفی |
| 77 | الوالي | مالک و کارساز |
| 78 | المتعالي | بہت بلند و بالا |
| 79 | البر | بڑا محسن |
| 80 | التواب | توبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا |
| 81 | المنتقم | مجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا |
| 82 | العفو | بہت معافی دینے والا |
| 83 | الرؤوف | بہت مہربان |
| 84 | مالك الملك | سارے جہاں کا مالک |
| 85 | ذو الجلال و الإكرام | صاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں |
| 86 | المقسط | حقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف |
| 87 | الجامع | ساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا |
| 88 | الغنى | خود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں |
| 89 | المغنى | اپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا |
| 90 | المانع | روک دینے والا |
| 91 | الضار | اپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا |
| 92 | النافع | نفع پہنچانے والا |
| 93 | النور | سراپا نور |
| 94 | الهادي | ہدائت دینے والا |
| 95 | البديع | بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا |
| 96 | الباقي | ہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں |
| 97 | الوارث | سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا |
| 98 | الرشيد | صاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے |
| 99 | الصبور | بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا |
19
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت در پیش آئے تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے :
لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيْمُ الْکَرِيْمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، والْحَمْدُ ِﷲِ
رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ
وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا
إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا یَا ارحم الراحمین.
رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ
وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا
إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا یَا ارحم الراحمین.
ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی صلاةِ الحاجة، 2 : 171، 172، رقم : 1384
’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ برد بار بزرگ ہے بڑے عرش کا مالک، اے اللہ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذریعے بخشش کے اسباب، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں، میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم ختم کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضا مندی کے مطابق ہو پوری فرما۔‘‘
20
استخارہ کی مسنون دعا
اَللّٰھمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ․
اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ فَاقْدِرْہُ لِیْ ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ ․
وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ ، فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہ․(بخاری،ترمذی)
دعاکرتے وقت جب ”ہذا الامر “پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”ہذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلا ”ہذا السفر “یا ”ہذا النکاح “ یا ”ہذہ التجارة “یا ”ہذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”ہذا الأمر “ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے
استخارہ حدیث نبوی کی روشنی میں
۱- عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارة فی الامور کلھا کما یعلمنا سورة من القرآن (ترمذی )
ترجمہ :حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔
ایک حدیث میں حضور اقدس صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
۴- ما خاب من استخار وما ندم من استشار (طبرانی)
یعنی جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا کہ میں نے یہ کام کیوں کیا ؟یا میں نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ، اس لیے کہ جو کام کیا وہ مشورہ کے بعد کیا اور اگر نہیں کیا تو مشورہ کے بعد نہیں کیا ، اس وجہ سے وہ شرمندہ نہیں ہوگا ۔
اس حدیث میں جو یہ فرمایا کہ استخارہ کرنے والاناکام نہیں ہوگا ،مطلب اس کا یہ کہ انجام کے اعتبار سے استخارہ کرنے والے کو ضرور کامیابی ہوگی ، چاہے کسی موقع پر اس کے دل میں یہ خیال بھی آجائے کہ جو کام ہوا وہ اچھا نہیں ہوا ، لیکن اس خیال کے آنے کے باوجود کامیابی اسی شخص کو ہوگی جو اللہ تعالی سے استخارہ کرتا رہے ، اسی طرح جو شخص مشورہ کرکے کام کرے گا وہ کبھی پچھتائے گا نہیں ، اس لیے کہ خدا نخواستہ اگر وہ کام خراب بھی ہوگیا تو اس کے دل میں اس بات کی تسلی ہوگی کہ میں نے یہ کام اپنی خود رائی اور اپنے بل بوتے پر نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دوستوں اور بڑوں سے مشورہ کے بعد کیا تھا ، اب آگے اللہ تعالی کے حوالے ہے کہ وہ جیسا چاہیں فیصلہ فرمادیں۔ اس لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے دوباتوں کا مشورہ دیا ہے کہ جب بھی کسی کام میں کشمکش ہو تو دو کام کرلیا کرو ، ایک استخارہ اور دوسرے استشارہ یعنی مشورہ۔
21
بخاری (6330) مسلم (594) میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے فرماتے:
("لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" [یعنی: اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کیلئے تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے ہاں کسی کی شان و شوکت اس کے کام نہیں آئے گی])
22
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سورت البقرہ(128)
23
سورت الفجر
يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
(ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔
اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔
فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
پس میرے بندوں میں شامل ہو۔
وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
اور میری جنت میں داخل ہو۔
24
سورت حشر
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ (22)
تفسیر
۲۲۔۱ غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہرچیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے
26
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح و شامسات مرتبہحسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیمسچے دل سے کہے یعنی فضیلت کے یقین کے ساتھ کہے یا یوں ہی فضیلت کے یقین کے بغیر کہے تو اللہ تعالیٰ اس کی (دنیا و آخرت کے) تمام غموں سے حفاظت فرمائیں گے، ترجمہ۔( مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہیں، ان کے سوا کوئی معبود نہیں ان ہی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کے مالک ہیں)۔
(ابو داود)
27
گھر سے نکلنے کی دعا:
((بسم اللہ توکلت علی اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ))
’’اللہ کے نام کے ساتھ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے نہ کچھ کرنے کی ۔‘‘ (ابوداؤد،ترمذی)
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ انسان جب یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے :تجھے اللہ کافی ہے اور تجھے شر سے بچا لیا گیا ہے اور تیری راہنمائی کردی گئی ہے ۔
چنانچہ جب انسان گھر سے باہر جانے لگے خواہ نماز پڑھنے کے لیے یا اپنے کام کے لیے یاگھر کے کسی کام کے لیے تو ہر مرتبہ اس دعا کو پڑھ لے تاکہ مندرجہ بالا بھلائیاں اسے نصیب ہوں۔
(اللہ ہمیں ان سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین)
29
بخشش اور رحم کی دعا
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اے رب! ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے
سورت اعراف 23
30
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ سورة المؤمنون۔118
ترجمہ : اور كہہ ديجیے كہ اے رب ، (ميرى) مغفرت كر اور رحم كر ، اور تو سب بہتر رحم كرنے والا ہے ۔
ترجمہ : اور كہہ ديجیے كہ اے رب ، (ميرى) مغفرت كر اور رحم كر ، اور تو سب بہتر رحم كرنے والا ہے ۔
31
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے میرے اللہ ذکر کرنے اور شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر
32
Ameer Hone Ka Nuskha | Dolat Itni Ke Sanbhali Na Jaye l Hadees e Nabvi saw l Hafiz Studio https://youtu.be/mpLHsNU_vGM
ReplyDelete